چینی سائنسدانوں نے ایک ایسا صحرائی پودا دریافت کیا ہے جسے سخت موسمی اور ماحولیاتی حالات برداشت کرنے میں اب تک کا سب سے مضبوط پودا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ ان حالات میں بھی زندہ رہ سکتا ہے جن میں زیادہ تر پودے مر جاتے ہیں، جیسے شدید خشک سالی، طاقتور تابکاری، سخت سردی اور مریخ سے مشابہ خلائی ماحول۔
یہ "سنٹریکیا کینینروس" نامی کائی ہے جو محققین کو شمال مغربی چین کے سنکیانگ اویغور خود مختار علاقے کے گربانتونگگوت صحرا میں ملی۔ سائنسدان اسے اب تک دریافت ہونے والا سب سے زیادہ سخت جان صحرائی پودا قرار دیتے ہیں۔
اس غیر معمولی صلاحیت کا تازہ ترین ثبوت خلا سے ملا ہے۔ گزشتہ مارچ میں اس کائی کا خشک نمونہ ایک چینی تجرباتی کارگو خلائی جہاز کے ذریعے مدار میں بھیجا گیا تاکہ وہاں اسے دوبارہ زندہ کرنے کا تجربہ کیا جا سکے۔ مائیکرو گریویٹی اور کائناتی تابکاری کے باوجود ایک کنٹرولڈ آبپاشی نظام نے اسے بہت کم پانی فراہم کیا، پھر بھی کائی میں جان آ گئی اور اس کا رنگ گہرے سرمئی سے زرد مائل سبز ہو گیا۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز کے سنکیانگ انسٹی ٹیوٹ آف ایکولوجی اینڈ جیوگرافی کی محققہ نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مکمل پودے کو زمین کے نچلے مدار میں بھیج کر کامیابی سے دوبارہ زندہ کیا گیا۔ ان کے مطابق مدار میں مسلسل نگرانی سے ظاہر ہوا کہ کائی نے دوبارہ بڑھنا شروع کر دیا، اس لیے یہ گہرے خلا میں حیاتیاتی تحقیق کے لیے مثالی مواد ہے۔
اسی محققہ نے 2024 میں اس کائی پر ایک تحقیق شائع کی تھی جس میں اسے "زمین سے باہر کے ماحول کو آباد کرنے" کے لیے ایک پیش رو پودا قرار دیا گیا تھا۔ محققین کے مطابق یہ اپنے خلیوں کے 98 فیصد سے زیادہ پانی کے ضیاع کو برداشت کر سکتی ہے، منفی 196 ڈگری سیلسیس پر تیزی سے منجمد کیے جانے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے اور طاقتور گاما شعاعوں کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
