امریکی خلائی ادارے ناسا نے مریخ پر طلوعِ صبح کی ایک تصویر جاری کی ہے جو کیوریوسٹی روور نے کھینچی ہے۔ یہ روور سرخ سیارے کی سطح پر اپنا تحقیقی مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

تصویر میں سورج کی کرنیں ان بلند چٹانی ساختوں کو روشن کر رہی ہیں جو اربوں سال پہلے وجود میں آئیں۔ یہ تصویر طلوعِ آفتاب کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ایسے علاقے پر لی گئی جہاں کی چٹانی ڈھلوانوں کو طویل ادوار میں ہوا اور موسمی عوامل نے تراشا ہے۔

ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے سیاراتی سائنس دان اشون واسوادا نے بتایا کہ افق پر دکھائی دینے والی ساختیں ایک ایسی ارضیاتی تہہ سے تعلق رکھتی ہیں جو روور کی اب تک دریافت کردہ تہوں سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق امکان ہے کہ یہ ہوا کے ذریعے لائے گئے رسوبات سے بنیں اور بعد میں کٹاؤ نے انہیں 'یارڈانگ' کہلانے والی ٹیلوں کی قطاروں میں ڈھال دیا۔

سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ یہ تہہ تقریباً تین ارب سال پہلے بنی اور مریخ کے گیل گڑھے کے وسط میں واقع ماؤنٹ شارپ کے شمال مغربی کناروں پر تقریباً 16 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہے۔

کیوریوسٹی 2012 میں گیل گڑھے میں اترا تھا اور 2014 سے ماؤنٹ شارپ پر چڑھ رہا ہے، اور اب تک ایک کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کر چکا ہے۔ ناسا کو توقع ہے کہ روور 2027 اور 2028 کے دوران 'یارڈانگ' تہہ تک پہنچ کر اس کی ارضیاتی خصوصیات کا مطالعہ کرے گا، جس سے مریخ کی تاریخ اور ماضی میں خوردبینی حیات کے لیے ممکنہ طور پر موزوں حالات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔