سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق اقامہ، لیبر اور سرحدی سیکیورٹی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 20 سے 26 اگست 2026 (7 تا 13 ربیع الاول 1448ھ) کے دوران مملکت کے تمام علاقوں میں مشترکہ فیلڈ مہم چلائی گئی۔ اس دوران مجموعی طور پر 14,434 افراد گرفتار ہوئے، جن میں 6,976 اقامہ قانون، 4,110 سرحدی سیکیورٹی قانون اور 3,348 لیبر قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب تھے۔
مملکت میں غیر قانونی داخلے کی کوشش کرتے ہوئے 1,450 افراد پکڑے گئے، جن میں 41 فیصد یمنی، 58 فیصد ایتھوپیائی اور 1 فیصد دیگر قومیتوں کے تھے، جبکہ غیر قانونی طور پر مملکت سے باہر جانے کی کوشش پر 44 افراد گرفتار ہوئے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو منتقل کرنے، پناہ دینے، ملازمت دینے یا ان کی پردہ پوشی میں ملوث 27 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔
اس وقت مجموعی طور پر 29,938 غیر ملکیوں (27,957 مرد اور 1,981 خواتین) کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ 18,914 افراد کو سفری دستاویزات کے لیے ان کے سفارتی مشنز کے حوالے کیا گیا، 2,867 کو سفری بکنگ مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا اور 14,905 کو ملک بدر کیا گیا۔
وزارت داخلہ نے خبردار کیا کہ سرحدی قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے داخلے، نقل و حمل، رہائش یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے والے کو 15 سال تک قید، 10 لاکھ ریال تک جرمانہ، گاڑی اور رہائش کی ضبطی اور نام کی تشہیر کی سزا ہو سکتی ہے۔ وزارت نے اسے گرفتاری کا موجب سنگین جرم قرار دیا۔
وزارت نے اپیل کی کہ خلاف ورزیوں کی اطلاع مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں 911 پر اور دیگر علاقوں میں 999 اور 996 پر دی جائے۔ تارکین وطن کارکنوں کے لیے یہ یاد دہانی ہے کہ اقامہ اور ملازمت کی قانونی حیثیت برقرار رکھنا ضروری ہے۔
