سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ جو غیر ملکی (وافد) اپنے ذاتی حساب سے کام کرتا ہے، اس پر ایسی سزائیں نافذ ہوتی ہیں جن میں 50,000 ریال تک جرمانہ، چھ ماہ تک قید اور ملک بدری شامل ہیں۔
یہ انتباہ ان غیر ملکیوں کے لیے ہے جو اپنی قانونی حیثیت کو منظم کرنے والے اقامہ اور لیبر قوانین کے بجائے اپنے طور پر آزادانہ کام کرتے ہیں۔
وزارت نے تمام افراد پر زور دیا ہے کہ وہ اقامہ، لیبر اور سرحدی سلامتی کے قوانین کی پابندی کریں اور خلاف ورزی کرنے والوں کی اطلاع دیں۔
اطلاع مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی ریجن میں 911 پر، جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 پر دی جا سکتی ہے۔
سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی محنت کشوں کے لیے یہ اہم یاد دہانی ہے کہ اپنی قانونی حیثیت سے ہٹ کر کام کرنا جرمانے، حراست اور مملکت میں قیام کا حق کھونے کا سبب بن سکتا ہے۔
