سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور فرانس کے تعلقات کا آغاز تقریباً سو سال قبل ہوا، جب 1926 میں فرانس نے مملکت میں ایک قونصل مقرر کیا اور 1932 میں جدہ میں سفارتی مشن قائم کیا۔ 1967 میں شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے دورہ فرانس اور صدر شارل ڈیگال سے ملاقات کے بعد یہ تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے امیر ریاض کی حیثیت سے 1986 میں صدر ژاک شیراک کے ساتھ پیرس میں “مملکت کل اور آج” نمائش کا افتتاح کیا۔ 2018 میں ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے دورہ فرانس کے دوران 18 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے 19 معاہداتی پروٹوکولز پر دستخط ہوئے۔ دسمبر 2024 میں صدر میکرون کے دورہ ریاض کے موقع پر اسٹریٹجک شراکت داری کونسل کے قیام پر اتفاق ہوا۔

سیاسی سطح پر دونوں ممالک نے ستمبر 2025 میں نیویارک میں مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی حل پر بین الاقوامی کانفرنس کی مشترکہ صدارت کی، جس کا مقصد اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا واضح راستہ طے کرنا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس کانفرنس سے جاری ہونے والا “اعلان نیویارک” فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 159 تک پہنچانے میں بنیادی سفارتی محرک بنا۔

اقتصادی میدان میں 2025 میں دونوں ممالک کی باہمی تجارت 11.5 ارب ڈالر تک پہنچی۔ مملکت میں 650 فرانسیسی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جن میں سے 39 نے یہاں علاقائی ہیڈکوارٹر قائم کیے ہیں۔ سعودی آرامکو اور ٹوٹل کی الجبیل میں قائم ساتورپ ریفائنری کی گنجائش یومیہ 460,000 بیرل ہے، اور دونوں کمپنیاں تقریباً 11 ارب ڈالر کے “امیرال” پیٹروکیمیکل منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔ فرانسیسی کمپنیاں ای ڈی ایف اور ٹوٹل انرجیز قابل تجدید توانائی کے قومی پروگرام کے تحت متعدد شمسی اور ہوائی توانائی منصوبوں میں شریک ہیں۔

ثقافتی شعبے میں 2018 میں العلا کی ترقی کے لیے سعودی-فرانسیسی وزارتی کمیٹی قائم ہوئی اور “ولا حجر” العلا میں پہلا مشترکہ سعودی-فرانسیسی ثقافتی مرکز بنا۔ رپورٹ کے مطابق ولی عہد کا حالیہ سرکاری دورہ سرمایہ کاری، صنعت، توانائی، سیاحت، ٹیکنالوجی اور دفاع جیسے شعبوں میں اس شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے ہے۔