سعودی عرب کی سینئر علما کونسل (ہیئۃ کبار العلماء) کی جنرل سیکریٹریٹ نے بدھ کو جاری بیان میں دہشت گرد حوثی گروہ کی جانب سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کو "ہر لحاظ سے دہشت گردی" قرار دیا۔

بیان میں، جس میں اس گروہ کو "دہشت گرد حوثی ملیشیا" کہا گیا ہے، یمن میں عام شہریوں اور شہری تنصیبات پر اس کے حملوں اور ان سے پیدا ہونے والی بدامنی اور انتشار کی بھی مذمت کی گئی۔ علما کے مطابق یہ ملیشیا داعش اور القاعدہ جیسی انتہا پسند تنظیموں سے کم خطرناک نہیں، بلکہ زمین میں فساد پھیلانے اور مسلمانوں پر جارحیت میں ان سے بھی آگے ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کا رخ کرنے والوں کو نشانہ بنانا اس سے بھی بڑا گناہ اور زیادتی ہے۔ سیکریٹریٹ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش ناکام بنا دی، اور اس میں سعودی فضائی دفاع کی چوکسی اور سعودی مسلح افواج کی مہارت بھی کارفرما رہی۔

علما نے سورۃ المائدہ کی آیت 33 اور سورۃ البقرہ کی آیت 205 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جرائم جان، مال، امن و استحکام کی حرمت کی پامالی اور مسلمانوں کے مقدسات کی بے حرمتی کی کوشش ہیں۔

انہوں نے سورۃ المائدہ کی آیت 2 اور سورۃ التوبہ کی آیت 71 کا ذکر کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ان کارروائیوں کی مذمت کریں اور مقدسات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ایک صف میں کھڑے ہوں۔