سعودی عرب کے قصیم ریجن میں کھجور کے کاشتکار اور پیداکار "ضمد" کے عمل کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ یہ کئی مراحل پر مشتمل طریقہ ہے جس کا مقصد پھل کی نمی کو قابو میں رکھنا، اس کی خصوصیات محفوظ رکھنا اور فصل کو ذخیرہ اور فروخت کے لیے تیار کرنا ہے۔

عمل کا آغاز چھانٹی سے ہوتا ہے: موزوں کھجوریں منتخب کی جاتی ہیں، خراب دانے الگ کیے جاتے ہیں اور باقی کو گرد و غبار سے صاف کیا جاتا ہے۔ پھر قسم، پکنے کے درجے اور نمی کے تناسب کے مطابق انہیں خشک کیا جاتا ہے تاکہ معیار متاثر ہوئے بغیر وہ ذخیرہ کے قابل ہو جائیں۔

کاشتکار محمد العرینی کا کہنا ہے کہ کٹائی کے بعد ضمد ایک اہم مرحلہ ہے اور اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسان کھجور کی قسم اور اس کی نمی سے کتنا واقف ہے اور خشک کرنے اور محفوظ رکھنے کا درست طریقہ اختیار کرتا ہے۔

ان کے مطابق کھجور کی دیکھ بھال توڑنے کے وقت سے شروع ہو کر چھانٹی، صفائی، ضمد اور ذخیرہ تک جاری رہتی ہے، اور درست طریقے اپنانے سے پھل کم خراب ہوتا ہے، فروخت کے لیے تیار ہوتا ہے اور زیادہ عرصے تک کارآمد رہتا ہے۔

العرینی نے بتایا کہ ضمد کے طریقے مختلف ہیں؛ روایتی طریقے میں کھجور کو دھوپ میں سکھا کر الٹ پلٹ کیا جاتا اور اس کی نگرانی کی جاتی ہے، جبکہ جدید طریقوں میں ڈرائنگ مشینیں اور کمرے استعمال ہوتے ہیں جن میں درجہ حرارت اور نمی کنٹرول کی جا سکتی ہے۔

آخری مرحلے میں خشک کھجوروں کو ٹھنڈا کر کے مناسب پیکنگ میں بھرا جاتا ہے اور صفائی، ہوا کی آمد و رفت اور موزوں درجہ حرارت والی جگہ پر ذخیرہ کیا جاتا ہے تاکہ نقصان کم ہو اور مصنوعات محفوظ رہیں۔