بانیِ مملکت شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود رحمہ اللہ کے القاب جدید سعودی ریاست کے قیام اور اتحاد کے ہر مرحلے کے ساتھ بدلتے رہے۔ سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہ عبدالعزیز فاؤنڈیشن برائے تحقیق و آرکائیوز (دارہ) نے ریاض کی بازیابی سے لے کر 1351 ہجری میں اتحاد کے اعلان تک ان القاب کی تاریخی ترتیب محفوظ کی ہے۔
ریاض میں داخلے کے بعد ان کا پہلا لقب "امیرِ نجد و رئیسِ عشائر" تھا۔ 1331 ہجری میں الاحساء میں داخلے کے بعد یہ "امیرِ نجد و الاحساء و القطیف و توابعہا و رئیسِ عشائرہا" بن گیا۔ 1334 ہجری میں انہوں نے "حاکمِ نجد و الاحساء و القطیف" کا لقب اختیار کیا، جبکہ 1339 ہجری کی ریاض کانفرنس میں وہ "سلطانِ نجد و ملحقاتہا" کہلائے۔
حجاز کے ان کی قیادت میں آنے کے بعد 1344 ہجری میں لقب "ملکِ حجاز و سلطانِ نجد و ملحقاتہا" ہوا اور 1345 ہجری میں نجد کا بادشاہ قرار دیے جانے کے بعد "ملکِ حجاز و نجد و ملحقاتہا"۔ آخرکار 1351 ہجری میں اتحاد کے اعلان کے ساتھ "شاہِ مملکت سعودی عرب" کا لقب اختیار کیا گیا۔
سرکاری القاب کے علاوہ عوام میں "السلطان"، "الامیر" اور "ابن سعود" جیسے نام بھی رائج تھے۔ جنگی معرکوں میں قوت کے باعث انہیں "سطّام" اور "لطّام" کہا گیا۔ اپنی بہن شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن سے گہرے تعلق کی بنا پر وہ "اخو نورہ" (نورہ کا بھائی) کہہ کر فخر کرتے، جبکہ مخالفین کے ہاں بھی تعزیت کے لیے جانے کی وجہ سے انہیں "معزّی" کہا جاتا تھا۔
دارہ کے مطابق یہ القاب محض الفاظ نہیں بلکہ سعودی ریاست کی تبدیلیوں کے تاریخی گواہ ہیں، جو قومی دن پر اس قائد کے سفر کی یاد دلاتے ہیں جس نے وطن کو متحد کیا۔



