سعودی وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2027 کے لیے ابتدائی بجٹ بیان جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق کل اخراجات تقریباً 1,392 ارب ریال اور کل آمدنی تقریباً 1,202 ارب ریال رہنے کی توقع ہے، جبکہ خسارہ جی ڈی پی کے تقریباً 3.6 فیصد کے برابر ہوگا۔ وزارت کے مطابق یہ مالی پالیسی معاشی ترقی کی معاونت، ترقیاتی ترجیحات پر عمل درآمد اور مالی استحکام کے درمیان توازن پر مبنی ہے۔

بیان کے مطابق کل آمدنی 2029 تک بڑھ کر تقریباً 1,351 ارب ریال اور کل اخراجات تقریباً 1,544 ارب ریال تک پہنچنے کا امکان ہے۔ سعودی وژن 2030 کے اقدامات کی بدولت غیر تیل آمدنی 2015 میں تقریباً 166 ارب ریال سے بڑھ کر 2025 میں 505 ارب ریال ہو گئی۔

وزارت نے بتایا کہ 2026 کے دوران معاشی اور جغرافیائی سیاسی حالات نے مملکت کی شرحِ نمو کو متاثر کیا۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق حقیقی جی ڈی پی میں 3.6 فیصد کمی آئی، جس کی وجہ تیل کی سرگرمیاں ہیں جن میں تقریباً 21.8 فیصد کمی متوقع ہے، جبکہ غیر تیل سرگرمیوں میں تقریباً 3.2 فیصد کی مثبت شرحِ نمو برقرار رہنے کی توقع ہے۔

سال کی پہلی ششماہی میں غیر تیل سرگرمیوں میں 1.8 فیصد اضافہ ہوا اور جی ڈی پی میں ان کا حصہ تاریخی سطح 57.3 فیصد تک پہنچ گیا۔ 2026 میں مہنگائی کی شرح تقریباً 2.1 فیصد رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح دوسری سہ ماہی میں کم ہو کر 6.5 فیصد رہ گئی۔ حکومت درمیانی مدت کی قرض حکمتِ عملی کے تحت بانڈز، صکوک اور قرضوں کے ذریعے مقامی اور بین الاقوامی فنانسنگ جاری رکھے گی۔

وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا: "حکومت معاشی اور جغرافیائی سیاسی پیش رفت اور عالمی معیشت، سپلائی چینز اور توانائی کی منڈیوں پر ان کے ممکنہ اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے، اور ان سے لچکدار اور پیشگی پالیسیوں کے ذریعے نمٹے گی جو معیشت کو سہارا دیں اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول کی صلاحیت کو مضبوط کریں۔"

مملکت میں مقیم اور کام کرنے والے افراد کے لیے یہ بیان آئندہ سال کی معاشی سمت اور سرکاری اخراجات کی ترجیحات کو سمجھنے کا اہم اشارہ ہے۔