سعودی عرب کی وزارت صحت نے دو ڈاکٹروں کے طبی پریکٹس لائسنس معطل کر دیے ہیں۔ وزارت نے ایک تشہیری ویڈیو کا نوٹس لیا جس میں دونوں نے اپنی پیشہ ورانہ حیثیت اور آپس کی رشتہ داری کو عوام کا اعتماد حاصل کرنے اور ایکسوسوم پروڈکٹ کے انجکشن کو محفوظ طریقہ قرار دے کر فروغ دینے کے لیے استعمال کیا۔
وزارت کے مطابق ویڈیو میں ایک ڈاکٹر کو اپنے بھائی کے ہاتھوں انجکشن لگواتے دکھایا گیا اور اسے پروڈکٹ کے معیار اور محفوظ ہونے کا ثبوت قرار دیا گیا، یعنی سائنسی شواہد اور سرکاری منظوری کے بجائے طبی عملے پر معاشرے کے اعتماد اور خاندانی رشتے کا سہارا لیا گیا۔
وزارت نے وضاحت کی کہ پیکنگ پر درج ہدایات کے مطابق یہ پروڈکٹ صرف بیرونی استعمال کے لیے ہے۔ اسے انجکشن کے ذریعے استعمال کرنا مقررہ طریقے کی خلاف ورزی ہے، اور بیرونی استعمال کی اجازت کا مطلب یہ نہیں کہ اسے انجکشن کے طور پر دیا جائے یا اس طرح اس کے محفوظ ہونے کی تشہیر کی جائے۔
خلاف ورزیوں میں پیشہ ورانہ حیثیت کا مارکیٹنگ کے لیے غلط استعمال، معیار اور حفاظت سے متعلق غیر ثابت شدہ دعوے، ہدایات کے برعکس پروڈکٹ کا استعمال اور مریضوں کو گمراہ کرنے والا تجارتی طبی مواد شامل ہے۔ وزارت کے مطابق یہ اقدامات صحت کے پیشوں کی پریکٹس کے قانون کے منافی ہیں، جو سائنسی طور پر غیر تسلیم شدہ علاج اور سنسنی خیز تجارتی تشہیر کی ممانعت کرتا ہے۔
وزارت نے کہا کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے تک یہ معطلی مریضوں کی حفاظت کے لیے کی گئی ہے، اور عوام سے اپیل کی کہ خلاف ضابطہ طبی سرگرمیوں کی اطلاع کال سینٹر 937 پر دیں۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے یہ یاد دہانی ہے کہ کسی طبی پروڈکٹ کی حفاظت سائنسی تحقیق اور سرکاری منظوری سے ثابت ہوتی ہے، ذاتی تجربے سے نہیں۔
