جاپان نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت خوراک اور مشروبات پر کنزمپشن ٹیکس عارضی طور پر کم کیا جائے گا اور کم آمدنی والے افراد کے لیے آمدنی سے منسلک نقد امداد کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ حکومت اسے پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں منظور کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق آئندہ اپریل سے دو سال کے لیے کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکس 8 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کر دیا جائے گا، جبکہ کم اور متوسط آمدنی والوں کو سالانہ ادائیگیاں بھی کی جائیں گی۔

1989 میں کنزمپشن ٹیکس کے نفاذ کے بعد یہ اپنی نوعیت کی پہلی کمی ہوگی۔ حکومت کو امید ہے کہ 12 دسمبر تک جاری رہنے والے پارلیمنٹ کے موجودہ خصوصی اجلاس میں قانون منظور ہو جائے گا۔

ان اقدامات کو مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے عوام کو فوری ریلیف دینے کا بہترین طریقہ قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے دو برسوں میں ٹیکس آمدنی میں تقریباً 10 ٹریلین ین، یعنی 63 ارب ڈالر کے برابر کمی آئے گی۔