مسجد الحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن بن عبدالعزیز السدیس نے خطبۂ جمعہ میں مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے اور سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں شرعی و اخلاقی حدود کی پابندی کی تلقین کی۔ انہوں نے افواہیں اور گمراہ کن خبریں پھیلانے اور دوسروں کی نجی زندگی میں مداخلت سے خبردار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو اعلیٰ اخلاق کی رہنمائی کرتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت اللہ کی نعمتیں ہیں جن کا شکر ان کے درست استعمال سے ادا ہوتا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر انسان جو کچھ لکھتا، شیئر کرتا یا دوبارہ نشر کرتا ہے، اس کا حساب ہوگا۔

شیخ السدیس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعل سازی، جعلی ویڈیوز بنانے، آوازوں کی نقل اور دوسروں کا روپ دھارنے کو حرام جھوٹ اور لوگوں کی عزت پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے خبریں، تصاویر اور ویڈیوز آگے بھیجنے سے پہلے تحقیق پر زور دیا اور حدیث نبوی ﷺ کا حوالہ دیا: 'آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔'

دوسرے خطبے میں انہوں نے اتحاد کی دعوت دی اور بلیک میلنگ، بہتان تراشی، آن لائن فراڈ، جلد امیر بننے کے جھانسے والے جعلی پیغامات اور قائدین و علما کو نشانہ بنانے والی جھوٹی ویڈیوز سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی۔

امام کعبہ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر دہشت گرد حوثی ملیشیا کے مجرمانہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ شریعت سے متصادم، مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے والے اور بین الاقوامی اصولوں اور معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس ایک سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔