سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مشرقی صوبے کی میونسپلٹی (امانہ) نے 91 سے زائد سرمایہ کاری معاہدوں کے ذریعے 17 ممالک کے 50 سرمایہ کاروں کو راغب کیا ہے جن کی مجموعی سرمایہ کاری 7 ارب ریال سے تجاوز کر گئی ہے۔ میونسپلٹی کے مطابق یہ سعودی وژن 2030 اور وزارتِ بلدیات و ہاؤسنگ کی حکمتِ عملی کے تحت سرمایہ کاری کا ماحول بہتر بنانے اور نجی شعبے کی شرکت بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

میونسپلٹی کے سرکاری ترجمان فیصل الزہرانی نے بتایا کہ سرمایہ کاروں میں خلیجی، عرب، ایشیائی، یورپی اور امریکی ممالک کے شہری شامل ہیں۔ معاہدوں کی مدت 5 سے 25 سال کے درمیان ہے، جس سے منصوبوں کی نوعیت کے مطابق مختلف سرمایہ کاری ماڈل دستیاب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میونسپلٹی سالانہ 2 ارب ریال سے زائد سرمایہ کاری آمدن حاصل کرتی ہے اور اس کے اثاثوں کی سرمایہ کاری کی شرح 95% سے بڑھ چکی ہے، جو 18 سرگرمیوں پر مشتمل مواقع کے ذریعے ممکن ہوئی۔

الزہرانی کے مطابق سرمایہ کاروں کو دی جانے والی سہولتوں میں لائسنس اور منظوریوں کے عمل میں تیزی، 50 سال تک کی معاہداتی مدت، معاہدے کی مدت کے 10% تک رعایتی مدت اور بینک گارنٹی کو کم کر کے 25% کرنا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری مقامی معیشت کو سہارا دیتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے اور مملکت کے اندر اور باہر سے مزید سرمایہ کاروں کو راغب کرتی ہے۔ مشرقی صوبے میں مقیم پاکستانی اور دیگر برادریوں کے لیے اس کا مطلب نئے منصوبے اور کام کے مواقع ہو سکتے ہیں۔