اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب سفیر ڈاکٹر عبدالعزیز الواصل نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ دوسرے بین الاقوامی ہجرت جائزہ فورم میں شرکت کی۔
الواصل نے کہا کہ باقاعدہ ہجرت کے مؤثر انتظام کے لیے ایسی بین الاقوامی شراکت داری درکار ہے جو ریاستوں کی خودمختاری اور قومی ترجیحات کا احترام کرے، تاکہ ترقی کو فروغ ملے اور باہمی فوائد حاصل ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے ہجرت سے متعلق عالمی معاہدے (گلوبل کمپیکٹ فار مائیگریشن) پر عملدرآمد کے حوالے سے اپنی پہلی رضاکارانہ قومی رپورٹ پیش کر دی ہے، جو پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک منظم ادارہ جاتی طریقہ کار کی عکاسی کرتی ہے۔ سفیر نے سعودی ویژن 2030 کے تحت لیبر مارکیٹ اور غیر ملکی افرادی قوت سے متعلق نمایاں اصلاحات کا بھی جائزہ پیش کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ اچھے انتظام کے ساتھ باقاعدہ ہجرت ترقی کے لیے معاون موقع ہے۔ ان کے مطابق 2025 کے دوران سعودی عرب میں مقیم افراد کی ترسیلات زر تقریباً 44 ارب امریکی ڈالر رہیں، جو رقوم وصول کرنے والے ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے اور پائیدار ترقی میں ان کے کردار کو ظاہر کرتی ہیں۔
سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں اور دیگر تارکین وطن کے خاندانوں کے لیے یہ اعداد و شمار خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے ممالک تک پہنچنے والی رقوم کے حجم کی نشاندہی کرتے ہیں۔
