سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق جدہ میں کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹر نے اپنی نوعیت کا دنیا کا پہلا پروٹوکول تیار اور نافذ کیا ہے، جو ایک الگورتھم کے ذریعے ہر عطیہ دہندہ سے حاصل ہونے والے اسٹیم سیلز کی متوقع مقدار کا درست اندازہ لگاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں تمام مرد عطیہ دہندگان میں 100% اور مجموعی طور پر 94.9% عطیہ دہندگان سے پہلی ہی نشست میں سیلز جمع کر لیے گئے، اور تیسری اور چوتھی نشست کی ضرورت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔

اسپتال کے مطابق اس پروٹوکول کا مقصد بار بار کی نشستوں اور ان سے عطیہ دہندہ کی سلامتی کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔ امریکہ کے نیشنل میرو ڈونر پروگرام کے اعداد و شمار کے مطابق بار بار نشستوں سے عطیہ دہندہ کے اسپتال میں داخل ہونے کا امکان چھ گنا بڑھ جاتا ہے۔

مریضوں کے حوالے سے، پیوند کاری کے 100 دن بعد زندہ رہنے کی شرح 91.2% ریکارڈ کی گئی جو عالمی اوسط سے زیادہ ہے۔ یہ نتائج امریکن سوسائٹی آف ہیماٹولوجی کے جریدے “بلڈ گلوبل ہیماٹولوجی” میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں درج کیے گئے ہیں۔

اسپتال کے شعبہ پیتھالوجی اور لیبارٹری میڈیسن کے سربراہ اور تحقیق کے مرکزی محقق پروفیسر اشرف دادا نے کہا: “صحت مند عطیہ دہندگان کو اسٹیم سیلز جمع کرنے کی بار بار نشستوں سے بچانا بیک وقت طبی اور اخلاقی ترجیح ہے۔” انہوں نے بتایا کہ تین سال میں تیار کیا گیا اور 138 عطیہ دہندگان پر آزمایا گیا یہ الگورتھم تقریباً 92% درستگی کے ساتھ جمع ہونے والے سیلز کی تعداد کا اندازہ لگاتا ہے، جس سے پیوند کاری کے منتظر مریضوں کا علاج بھی تیز ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اسپتال 2026 کے لیے دنیا کے 250 بہترین تعلیمی طبی اداروں کی فہرست میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پہلے اور عالمی سطح پر 12ویں نمبر پر ہے۔ برانڈ فنانس نے 2026 میں اسے سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ میں صحت کے شعبے کا سب سے قیمتی برانڈ قرار دیا، جبکہ نیوز ویک کی بہترین اسپتالوں کی فہرستوں میں بھی یہ شامل ہے۔