سعودی وزارت داخلہ کے مطابق 10 سے 16 ستمبر 2026 کے دوران مملکت کے تمام علاقوں میں کی گئی مشترکہ فیلڈ مہمات میں اقامہ، محنت اور سرحدی سلامتی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مجموعی طور پر 14,782 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں 7,438 اقامہ قانون، 3,782 سرحدی سلامتی قانون اور 3,562 لیبر قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب تھے۔

اس دوران غیر قانونی طور پر سرحد پار کر کے مملکت میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے 1,450 افراد پکڑے گئے، جن میں 43 فیصد یمنی، 56 فیصد ایتھوپیائی اور 1 فیصد دیگر قومیتوں کے تھے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی طریقے سے مملکت سے باہر جانے کی کوشش پر 25 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کو منتقل کرنے، پناہ دینے، ملازمت دینے یا چھپانے میں ملوث 23 افراد بھی پکڑے گئے۔

وزارت نے بتایا کہ اس وقت 31,075 غیر ملکی خلاف ورزی کرنے والوں (29,171 مرد اور 1,904 خواتین) کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ 18,986 افراد کو سفری دستاویزات کے حصول کے لیے ان کے سفارتی مشنز کے حوالے کیا گیا، 3,834 کو سفری بکنگ مکمل کرنے کے لیے بھیجا گیا اور 12,635 کو ملک بدر کر دیا گیا۔

وزارت نے خبردار کیا کہ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مملکت میں داخلے میں سہولت دینے، اندرون ملک منتقل کرنے، پناہ دینے یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے والے کو 15 سال تک قید، 10 لاکھ ریال تک جرمانہ، گاڑی اور رہائش کی ضبطی اور نام کی تشہیر کی سزا ہو سکتی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ گرفتاری کا موجب سنگین جرم ہے۔

مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی ریجن میں خلاف ورزیوں کی اطلاع 911 پر جبکہ دیگر علاقوں میں 999 اور 996 پر دی جا سکتی ہے۔ مملکت میں مقیم غیر ملکیوں کے لیے یہ اعداد و شمار اپنی اقامہ اور ملازمت کی حیثیت کو قانونی رکھنے کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔