سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں فیوچر منرلز فورم (عالمی کان کنی کانفرنس) کا چھٹا ایڈیشن 12 سے 14 جنوری 2027 تک ریاض میں منعقد ہوگا، جس کا اہتمام وزارت صنعت و معدنی وسائل کر رہی ہے۔ اس بار فورم کا موضوع 'لچکدار معدنی سپلائی چینز کے لیے عالمی تعاون' ہے۔
جنوری 2026 میں منعقدہ پانچویں ایڈیشن میں 91 ممالک کے نمائندوں، 64 سے زائد سرکاری و غیر سرکاری تنظیموں اور 175 ممالک سے 21,500 سے زیادہ شرکا نے حصہ لیا۔ اس موقع پر 100 ارب ریال (26.7 ارب ڈالر) سے زائد مالیت کے 132 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، جس کے بعد پانچ ایڈیشنز میں اعلان کردہ معاہدوں کی مجموعی تعداد 398 اور ان کی مالیت 282 ارب ریال (75.2 ارب ڈالر) سے تجاوز کر گئی۔
چھٹا ایڈیشن مالی وسائل کو متحرک کرنے، منصوبوں کی تیاری میں تیزی لانے اور پیداوار کے مرحلے تک پہنچنے کی مدت کم کرنے پر توجہ دے گا، تاکہ مملکت کے اندر اور افریقہ، مغربی و وسطی ایشیا اور لاطینی امریکا تک پھیلے 'سپر ریجن' جیسے ابھرتے ہوئے سپلائی خطوں میں معدنیات کی فراہمی اور ویلیو چینز کو فروغ ملے۔
فورم کی سرگرمیوں میں حکومتوں کی قیادت میں وزارتی گول میز اجلاس سرفہرست ہوگا۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کو معیاری منصوبوں سے جوڑنے کے لیے 'گیٹ وے ٹو فنڈنگ' سرگرمیاں، عالمی منڈی کے رجحانات پر 'اسٹیٹ آف دی سیکٹر' سیشنز اور سپلائی چینز کی مضبوطی پر خصوصی قیادتی اجلاس بھی ہوں گے۔
ایس پی اے کے مطابق مملکت میں معدنی تلاش پر مجموعی اخراجات 2020 میں 205 ملین ریال (54.7 ملین ڈالر) سے بڑھ کر 2025 میں تقریباً 1.36 ارب ریال (362.7 ملین ڈالر) کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے، جبکہ اسی عرصے میں سرگرم تلاش کمپنیوں کی تعداد 6 سے بڑھ کر 191 ہو گئی۔
وزیر توانائی اور وزیر صنعت و معدنی وسائل شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان بن عبدالعزیز نے حال ہی میں ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی 70ویں جنرل کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ مدینہ منورہ ریجن میں جبل صاید منصوبے میں تقریباً 114 ملین ٹن خام دھات کے تخمینی وسائل دریافت ہوئے ہیں، جن میں نایاب ارضی عناصر کی بلند مقدار موجود ہے۔ رجسٹریشن اور مزید معلومات کے لیے futuremineralsforum.com ملاحظہ کریں۔
