سعودی پریس ایجنسی کے مطابق جنرل اتھارٹی برائے اوقاف نے اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے فیصلے کے تحت “نامعلوم اور معطل اوقاف کی بحالی کا ضابطہ” جاری کیا ہے۔ یہ ایک جامع تنظیمی فریم ورک ہے جو محض اطلاع دینے سے آگے بڑھ کر ایسے اوقاف کی بحالی کو منظم کرتا ہے، تاکہ اوقاف محفوظ رہیں، دوبارہ نفع بخش بنیں اور واقفین کی شرائط پوری ہوں۔
یہ ضابطہ نامعلوم اوقاف کی اطلاع سے متعلق سابقہ قواعد کی جگہ لے رہا ہے اور اس کا دائرہ معطل اوقاف تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس میں بحالی میں شریک ہونے والے فریقوں کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے اور متعلقہ قوانین اور واقف کی شرط کے مطابق سرمایہ کاری، ترقی، فنانسنگ اور شراکت جیسے طریقوں کی اجازت دی گئی ہے۔
ضابطے میں اطلاع دہندگان کے لیے مراعات طے کی گئی ہیں اور زیادہ سے زیادہ انعام بڑھا کر دس ملین (ایک کروڑ) ریال کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اطلاع دہندگان کے حقوق، ان کی معلومات کی رازداری اور انہیں اطلاع کے نتائج سے آگاہ کرنے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔
اتھارٹی نے عوام اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ نامعلوم اوقاف کی اطلاع دیں اور ان کی بحالی میں حصہ لیں۔ واضح رہے کہ اتھارٹی اب تک ڈیڑھ ارب ریال سے زائد مالیت کے اثاثوں پر مشتمل اوقاف کی نشاندہی کر چکی ہے۔
