شمال مغربی پاکستان کے شہر پشاور میں ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 35 ہو گئی ہے، جن میں 34 بچے اور ایک استانی شامل ہیں، جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ یہ اعداد و شمار طبی حکام نے آج جاری کیے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق ہسپتال میں 33 لاشیں لائی گئیں جن میں 32 بچے اور ایک استانی شامل ہیں۔ نصیر اللہ بابر ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل ڈائریکٹر نے مزید دو بچوں کی لاشیں پہنچنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ جاں بحق بچوں کی عمریں 14 سال سے زیادہ نہیں تھیں۔

پشاور پولیس کے سربراہ ڈاکٹر میاں سعید نے اسکول کے مالک کی گرفتاری اور واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیر کالونی میں واقع عمارت میں تعمیراتی نقائص موجود تھے۔ ریسکیو ٹیمیں پاک فوج کے ساتھ مل کر ملبے تلے ممکنہ طور پر پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی جامع تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا حکم دیا ہے، اور ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جائے۔