سعودی عرب کی شہزادہ مساعد بن عبدالرحمن یونیورسٹی ریاض میں منعقدہ ساتویں بین الاقوامی کانفرنس برائے معذوری و بحالی میں شریک ہے۔ کانفرنس کے ساتھ لگی نمائش میں اپنے پویلین کے ذریعے یونیورسٹی معذور افراد کی خدمت اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے اپنے اقدامات، سائنسی تحقیق اور تعلیمی و تکنیکی پروگرام پیش کر رہی ہے۔ کانفرنس 13 اکتوبر تک جاری رہے گی۔

یہ شرکت ظاہر کرتی ہے کہ یونیورسٹی اپنی تعلیمی، تحقیقی اور تکنیکی صلاحیتوں کو معذور افراد کے لیے تعلیم تک رسائی آسان بنانے، ان کے معیار زندگی کو بہتر کرنے اور معاشرے میں ان کی شمولیت بڑھانے کے لیے کیسے استعمال کر رہی ہے۔

یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمد بن یحییٰ مرضی نے کہا کہ سعودی قیادت کی جانب سے معذور افراد پر دی جانے والی توجہ انہیں بااختیار بنانے اور معاشرے میں فعال کردار دلانے کے عزم کی عکاس ہے، اور تعلیمی اداروں کا ان کی ضروریات کے مطابق پروگرام تیار کرنے میں اہم کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی زیادہ جامع اور لچکدار تعلیمی مواقع فراہم کرنے والے حل تیار کر رہی ہے، جو معذور افراد کی خود انحصاری اور سماجی انضمام کو مضبوط کرتے ہیں۔

کانفرنس کا انعقاد شاہ سلمان مرکز برائے تحقیقِ معذوری نے کیا ہے، جس میں سعودی عرب اور بیرون ملک سے سائنس دان، محققین، جدت کار اور متعلقہ ادارے معذوری اور بحالی کے شعبے میں تازہ ترین سائنسی و تکنیکی پیش رفت پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔