سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی تاریخ میں شاہی محلات ریاستی امور کی انجام دہی، وفود کے استقبال اور بادشاہوں اور ان کے خاندانوں کی رہائش سے وابستہ رہے ہیں۔ قومی دن کے تاریخی مواد کی معلوماتی رہنما دستاویز میں ان محلات کے تاریخی اور تعمیراتی کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس سلسلے کا آغاز ریاض کے "قصر الحکم" سے ہوتا ہے، جسے امام ترکی بن عبداللہ نے 1240ھ (1824ء) میں حکومت اور رہائش کا مرکز بنایا۔ امام فیصل بن ترکی کے دور میں اس کی توسیع ہوئی اور اسے جامع مسجد سے ملانے والی بالائی راہداری بنائی گئی۔ 1319ھ (1902ء) میں ریاض کی بازیابی کے بعد شاہ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اسے ازسرنو تعمیر کر کے چار حصوں پر مشتمل حکومتی و انتظامی مرکز بنا دیا۔

شاہ عبدالعزیز نے 1355ھ (1936ء) کے اواخر میں قدیم ریاض کی فصیل سے باہر "قصر المربع" کی تعمیر کا حکم دیا اور 1357ھ (1938ء) میں وہاں منتقل ہو گئے۔ مقامی طرز پر کچی اینٹوں، پتھر کے ستونوں اور جھاؤ (اثل) کی لکڑی سے بنے اس احاطے میں شاہی دیوان قائم تھا، جہاں سفیروں اور معزز مہمانوں کا استقبال کیا جاتا تھا۔

1362ھ (1942ء) میں تعمیر ہونے والا ریاض کا "قصر الحمراء" مضبوط کنکریٹ کے استعمال اور اپنے سرخ رنگ کے بیرونی حصوں کی وجہ سے ممتاز تھا۔ یہ بعد میں شاہ سعود کے دور میں شاہی دیوان اور پھر شاہی مہمان خانہ بنا۔ ریاض کا "قصر الناصریہ" بھی شاہ سعود اور شاہی دیوان کا مستقر رہا۔

جدہ کے "قصر خزام" کی تعمیر کا حکم 1347ھ (1928ء) میں دیا گیا اور یہ 1350ھ (1932ء) میں مکمل ہوا۔ یہاں سعودی عرب اور دیگر ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں پر دستخط ہوئے اور بعد میں اسے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ محلات سعودی ریاست کے سفر کے مختلف مراحل کے تعمیراتی اور تاریخی شواہد ہیں۔