سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق نجران کے دیہی فارم پرکشش سیاحتی اور سرمایہ کاری کی منزلوں میں بدل گئے ہیں، جو فطرت کے درمیان سکون کے متلاشی سیاحوں اور مقامی باشندوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ یہ فارم زرعی سیاحت کو علاقے کی ثقافتی اور ماحولیاتی شناخت کے تحفظ کے ساتھ جوڑنے کا منفرد نمونہ پیش کرتے ہیں۔
فارم مالکان نے انہیں کھلے دیہی ریزورٹس میں بدل دیا ہے جہاں بلند کھجور کے درختوں اور خوشبودار پودوں سے گھرے وسیع سبزہ زاروں میں نشستیں بنائی گئی ہیں۔ عمارتوں میں روایتی مٹی کا طرزِ تعمیر اپنایا گیا ہے اور راہداریوں کو مٹی کے برتنوں، کھجور کے پتوں سے بنی چٹائیوں اور نجرانی "دلّہ" (روایتی قہوہ دان) جیسی قدیم اشیا سے سجایا گیا ہے۔
یہ فارم بچوں اور خاندانوں کے لیے تفریحی مقام بھی بن چکے ہیں، جہاں پالتو جانوروں، نایاب پرندوں اور گھریلو مرغیوں کے لیے مخصوص گوشے ہیں اور سیاح انہیں دانہ ڈال کر براہِ راست ان سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
ماحول کے تحفظ کے لیے فارم چلانے والے جدید آبپاشی نظام کے ذریعے پانی کی بچت، نامیاتی کھاد کے استعمال، مقامی نباتات کے تحفظ اور زرعی فضلے کی ری سائیکلنگ کے معیارات پر عمل کرتے ہیں۔ متعدد سیاحوں نے کہا کہ کھجور کے درختوں اور مٹی کی عمارتوں کے درمیان وقت گزارنا زمین اور ورثے سے رشتہ تازہ کرتا ہے۔ مملکت میں مقیم خاندانوں کے لیے یہ ہفتہ وار تعطیل کا ایک پرسکون انتخاب ہے۔


