سعودی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی قابض حکام کے عہدیداروں اور انتہا پسند آبادکاروں کے ایک گروہ کی جانب سے مسجد اقصیٰ مبارک کے خلاف جاری اشتعال انگیز کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ کارروائیاں قابض حکام سے وابستہ فورسز کی حفاظت میں کی گئیں اور ان سے مسجد کی حرمت اور اس کے دینی و تاریخی مقام کی پامالی ہوئی۔
وزارت نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مملکت کی جانب سے انہیں مسترد کرنے کے مؤقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کے مترادف ہیں۔ مسجد اقصیٰ القدس میں واقع ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خاص دینی اہمیت رکھتی ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا: "مملکت جنوبی لبنان کے علاقوں اور غزہ کی پٹی میں 'یلو لائن' تک پھیلے علاقوں کے الحاق سے متعلق اسرائیلی بیانات کی مذمت کرتی ہے، کسی بھی اسرائیلی توسیع پسندانہ کوشش کو مسترد کرتی ہے، اور برادر فلسطینی عوام کے 1967 کی سرحدوں پر مشرقی القدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے اپنی آزاد ریاست کے قیام کے حق پر زور دیتی ہے۔"
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق یہ بیان فلسطینی عوام کے حقوق اور مقدس مقامات کے تحفظ کے حوالے سے مملکت کے مستقل مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
