سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارت دفاع کی طبی خدمات نے اپنے دو طبی اداروں کے درمیان پہلی ریموٹ روبوٹک سرجری (ٹیلی سرجری) انجام دی ہے۔ اسے ایک نمایاں طبی اور تکنیکی کامیابی قرار دیا گیا ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ اس کا ڈیجیٹل ڈھانچہ جغرافیائی فاصلوں سے بالاتر ہو کر ماہرانہ علاج فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ آپریشن ایک مریض کے دائیں گردے کی دائیں نالی (یوریٹر) پر روبوٹک تکنیک سے کیا گیا اور کامیاب رہا۔ مریض اس وقت طبی نگرانی میں ہے اور اس کی حالت مستحکم ہے۔
سرجری کے لیے ریاض میں پرنس سلطان ملٹری میڈیکل سٹی کے آپریشن تھیٹر کو ظہران میں کنگ فہد ملٹری میڈیکل کمپلیکس کے آپریشن تھیٹر سے ایک جدید روبوٹک نظام اور انتہائی قابل اعتماد ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے منسلک کیا گیا۔ سرجن نے دور بیٹھ کر آپریشن کیا جبکہ مریض کے ساتھ موجود طبی ٹیم نے آپریشن تھیٹر میں معاون امور انجام دیے۔
وزارت کی طبی خدمات کے مطابق یہ ریموٹ روبوٹک سرجری کو وسعت دینے کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے، جس سے مستقبل میں دور دراز اور سرحدی علاقوں کے ہسپتالوں تک ماہرانہ علاج پہنچایا جا سکے گا اور موزوں کیسز میں مریض یا سرجیکل ٹیم کو سفر کی ضرورت نہیں رہے گی۔
یہ کامیابی سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے تعاون سے ممکن ہوئی، جس نے روبوٹ کی مارکیٹنگ کی اجازت دے کر مملکت میں اس کے استعمال کی راہ ہموار کی۔ یہ قدم ہیلتھ سیکٹر ٹرانسفارمیشن پروگرام اور سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔


