سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارتِ افرادی قوت و سماجی ترقی نے وزارتِ بلدیات و ہاؤسنگ کے تعاون سے نجی شعبے میں انجینئرنگ کے پیشوں میں سعودائزیشن کی شرح 30% کرنے کے فیصلے پر 30 جون 2026 سے عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ان اداروں پر لاگو ہے جہاں متعلقہ پیشوں میں 5 یا اس سے زیادہ کارکن کام کرتے ہیں۔

فیصلے کے دائرے میں 46 انجینئرنگ پیشے شامل ہیں، جن میں آرکیٹیکٹ، پاور جنریشن انجینئر، صنعتی انجینئر، الیکٹرانکس انجینئر، وہیکل انجینئر، میرین انجینئر، ہیلتھ انجینئر، ٹیکنیکل پروڈکشن انجینئر، سائٹ ڈیزائن انجینئر، آئل اینڈ گیس انجینئر، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انجینئر اور ایوی ایشن انجینئر نمایاں ہیں۔ اس کے ساتھ سعودی کونسل آف انجینئرز سے پیشہ ورانہ منظوری بھی ضروری ہے۔

وزارت کی نگران ٹیموں نے اداروں میں فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی شروع کر دی ہے، اور مقررہ مہلت ختم ہونے کے بعد پابندی نہ کرنے والے اداروں پر قانونی سزائیں عائد کی جائیں گی۔

وزارتوں کے مطابق یہ فیصلہ سعودی ماہرین کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ سعودی عرب کے نجی شعبے میں کام کرنے والے پاکستانی انجینئرز اور ان کے آجروں کے لیے یہ تبدیلی براہِ راست اہمیت رکھتی ہے۔