سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مکہ چیمبر آف کامرس نے وزارتِ سرمایہ کاری اور رئیل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی کے تعاون سے “غیر سعودیوں کی جائیداد کی ملکیت کے انتظامی ضوابط اور جغرافیائی حدود” کے عنوان سے ایک ورچوئل ورکشاپ کا اہتمام کیا، جس کا مقصد سرمایہ کاری کے ماحول کو مضبوط بنانا اور ان ضوابط کے بارے میں آگاہی بڑھانا تھا۔

ورکشاپ میں بتایا گیا کہ یہ ضوابط غیر سعودیوں کی جائیداد کی ملکیت کو ایک واضح فریم ورک میں منظم کرتے ہیں جو سرمایہ کاری اور مارکیٹ کی کارکردگی میں مدد دیتا ہے اور ساتھ ہی مفادِ عامہ سے متعلق شرائط بھی برقرار رکھتا ہے۔ الیکٹرانک پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن اور ادائیگی، تعمیل، نگرانی، اعتراض اور معائنے کے طریقۂ کار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

ضوابط کے اہم نکات میں ملکیت کے اہل زمروں اور ان کی رجسٹریشن کا طریقہ، جغرافیائی حدود کے مطابق ملکیت کی تنظیم، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے متعلق خصوصی احکامات، نیز فیسیں، استثنیٰ اور غیر ملکی ملکیت والی کمپنیوں کے ضوابط شامل ہیں۔

سعودی عرب میں جائیداد خریدنے کا سوچنے والے پاکستانی مقیمین اور دیگر غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے یہ ضوابط واضح کرتے ہیں کہ کون، کہاں اور کس طریقے سے جائیداد خرید سکتا ہے۔

ورکشاپ میں کہا گیا کہ یہ ضوابط سرمایہ کاری کے فروغ، رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی کارکردگی میں اضافے اور مملکت کو سرمایہ کاری کی پرکشش منزل بنانے کے ذریعے سعودی وژن 2030 کے اہداف کی تکمیل میں مدد دیتے ہیں۔