سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ جو ادارہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے غیر ملکیوں کو ملازمت دے، اپنے کارکنوں کو اپنے طور پر یا دوسروں کے پاس کام کرنے کی اجازت دے، یا دوسرے اداروں کے کارکنوں سے کام لے، اس پر 100,000 ریال تک جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

وزارت کے مطابق ایسے ادارے پر پانچ سال تک نئی بھرتی (استقدام) پر پابندی لگائی جا سکتی ہے اور اس کا نام مشتہر کیا جا سکتا ہے۔ ذمہ دار مینیجر کو ایک سال تک قید ہو سکتی ہے اور اگر وہ غیر ملکی ہو تو اسے ملک بدر کیا جائے گا۔ وزارت نے کہا کہ جرمانے متعلقہ افراد کی تعداد کے حساب سے بڑھتے جائیں گے۔

وزارت نے اقامہ، محنت اور سرحدی سلامتی کے قوانین کی پابندی کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کی اطلاع دینے پر زور دیا۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی ریجن میں 911 اور مملکت کے باقی علاقوں میں 999 پر کال کر کے اطلاع دی جا سکتی ہے۔

سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں اور آجروں دونوں کے لیے یہ یاددہانی ہے کہ صرف قانونی کفیل کے پاس اور ضوابط کے مطابق کام کرنا لازمی ہے۔