سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق سعودی عرب نے جاپان کے شہر کیوٹو میں 'سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اِن سوسائٹی' (ایس ٹی ایس) فورم کے موقع پر منعقدہ تحقیقی اداروں کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں دنیا بھر کے 33 تحقیقی اداروں کے سربراہان شریک ہوئے اور مصنوعی ذہانت کی وجہ سے سائنسی تحقیق اور علم کی تخلیق کے مستقبل میں آنے والی تبدیلیوں پر غور کیا۔

اجلاس میں مملکت کی نمائندگی شاہ عبدالعزیز سٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی (کاکسٹ) کے صدر اور تحقیق، ترقی و اختراع اتھارٹی کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر منیر الدسوقی نے کی، جو ایس ٹی ایس فورم کی کونسل کے رکن بھی بن گئے ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق یہ قدم بین الاقوامی سائنسی و تکنیکی پلیٹ فارمز پر مملکت کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی عکاسی کرتا ہے۔

'مصنوعی ذہانت کی دیانت اور کشادگی' کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں دریافت اور تحقیق کو تیز کرنے میں مصنوعی ذہانت کے مواقع کے ساتھ ساتھ علم کی معتبریت، کمپیوٹنگ صلاحیتوں اور جدید انفراسٹرکچر تک رسائی، ڈیٹا کی خودمختاری، ماڈلز کی کشادگی اور محققین کی فکری خدمات کے تحفظ جیسے چیلنجز پر بات ہوئی۔

اجلاس کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں ایسا سائنسی نظام تیار کرنے پر زور دیا گیا جو مصنوعی ذہانت کی جدید صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے مگر تحقیق کی دیانت اور کشادگی برقرار رکھے۔ اعلامیے میں ڈیٹا کی خودمختاری اور ماڈلز کی کشادگی کے درمیان توازن اور جدید تحقیقی انفراسٹرکچر تک رسائی بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ اداروں اور سائنسی برادریوں کے درمیان فرق کم ہو۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ محققین کی فکری خدمات کو منصفانہ طور پر تسلیم کیا جائے اور انسان تحقیق و تخلیق کے مرکز میں رہے، تاکہ مصنوعی ذہانت سائنس دانوں کی صلاحیتیں بڑھانے کا ذریعہ بنے، نہ کہ انسانی تجسس، سوچ اور تخلیق کا متبادل۔ سربراہان نے ذمہ دارانہ تحقیق کے لیے گہرے بین الاقوامی تعاون پر بھی زور دیا۔