خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے کہا ہے کہ جی سی سی ممالک اور جمہوریہ بھارت کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی پیش رفت دیکھی جا رہی ہے، جس کے پیچھے باہمی مفادات اور خطے میں سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے تعاون بڑھانے کا مشترکہ عزم ہے۔ یہ بات سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے بتائی۔
وہ دوسرے جی سی سی-بھارت مشترکہ وزارتی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس کی مشترکہ صدارت بحرین کے وزیرِ خارجہ اور کونسل کے موجودہ اجلاس کے صدر ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی اور بھارت کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر سبرامنیم جے شنکر نے کی۔ اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوا، جس میں جی سی سی ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔
البدیوی نے کہا کہ دونوں فریق 2024 میں منظور شدہ مشترکہ لائحۂ عمل پر عمل درآمد جاری رکھنے اور اس کے تحت ہونے والے تکنیکی اجلاسوں کے نتائج کو عملی پروگراموں میں ڈھالنے کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے جی سی سی اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات کے آغاز کو اقتصادی اور سرمایہ کاری تعاون کی وسعت کی جانب اہم قدم قرار دیا اور انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں رابطہ جاری رکھنے پر زور دیا۔
علاقائی صورتحال پر سیکریٹری جنرل نے کہا کہ 28 فروری 2026 سے جی سی سی ممالک کو ایرانی حملوں کا سامنا ہے، حالانکہ یہ ممالک تنازع کا فریق نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل سے واضح ہوا کہ خطے کے بحری راستوں کی سلامتی کا عالمی توانائی تحفظ اور سپلائی چین سے براہِ راست تعلق ہے۔ انہوں نے ایران سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 پر مکمل عمل اور آبنائے ہرمز و باب المندب میں جہاز رانی کو 28 فروری 2026 سے پہلے کی حالت پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
البدیوی نے جی سی سی ممالک پر ایرانی حملوں کو مسترد کرنے اور بحری سلامتی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرنے پر بھارت کے مؤقف کو سراہا، اور امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس جی سی سی اور بھارت کے اسٹریٹجک مکالمے کو مضبوط کرے گا اور تعاون کے نئے شعبے کھولے گا۔
