انڈپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے شہر حیدرآباد کے ایک شہری بھی ان افراد میں شامل تھے جو 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملے کا نشانہ بنے۔ حملے کے وقت وہ مدینہ منورہ کی پرواز کا بورڈنگ پاس لے کر انتظار گاہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں تین سو سے زائد افراد کو چوٹیں آئیں، جن میں 17 پاکستانی بھی تھے۔ ان میں سے زیادہ تر کو علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے، جبکہ دو اب بھی ہسپتال میں ہیں اور ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔

یہ شہری چار بچوں کے والد ہیں اور 28 سال سے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں مقیم ہیں۔