سعودی اسپورٹس فار آل فیڈریشن نے 7 اور 8 اکتوبر کو لندن کے اسٹامفورڈ برج اسٹیڈیم میں منعقدہ ’لیڈرز ویک لندن 2026‘ میں شرکت کی، جس میں کھیلوں کے شعبے کے بین الاقوامی رہنما اور ماہرین شریک ہوئے۔
فیڈریشن کے وفد کی قیادت ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیماء بنت صالح الحصینی نے کی۔ انہوں نے ’جسمانی سرگرمی کا فروغ: شرکت میں وسعت اور زیادہ متحرک معاشروں کی تشکیل‘ کے عنوان سے مباحثے میں لندن میراتھن ایونٹس کی چیف آپریٹنگ آفیسر جینیٹ وونگ اور پارک رن کی سی ای او الزبتھ ڈگن کے ساتھ حصہ لیا۔
الحصینی نے بتایا کہ وژن 2030 کے تحت مملکت میں جسمانی سرگرمی کی شرح 2018 میں 13 فیصد سے بڑھ کر 2022 میں 48.2 فیصد ہو گئی، جبکہ 2025 میں 59.1 فیصد بالغ افراد ہفتے میں 150 منٹ کی تجویز کردہ سرگرمی پوری کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ شرکت کی ترغیب دینے والے عوامل اور رکاوٹوں کو سمجھ کر لوگوں کے طرز زندگی کے مطابق اقدامات تیار کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے ریاض میراتھن کی مثال دی جس کے شرکا کی تعداد 2022 میں تقریباً 10 ہزار سے بڑھ کر 2026 میں 50 ہزار سے زائد ہو گئی، اور جسے ورلڈ ایتھلیٹکس کی جانب سے روڈ ریس کا ایلیٹ لیبل ملا ہے۔
مباحثے میں کھیلوں کے اقدامات کو پائیدار بنانے میں تجارتی شراکت داریوں کے کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس ایونٹ میں 65 سے زائد مقررین اور سینکڑوں فیصلہ سازوں نے ابھرتی ٹیکنالوجی، اسپانسرشپ، شائقین کی شمولیت، قیادت، عالمی ترقی اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کیا۔
