سعودی پریس ایجنسی کے مطابق نباتاتی آفات اور حیوانی امراض کی روک تھام و انسداد کے قومی مرکز "وقاء" نے برائلر مرغی کی پیداوار کے 266 منصوبوں کو "خود درجہ بندی" کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ یہ اقدام پولٹری منصوبوں کو خطرے کی سطح کے مطابق درجہ بندی کرنے کے نظام کا حصہ ہے، جس کے ساتھ میدانی کارروائیاں اور تکنیکی جائزے بھی کیے جاتے ہیں۔

خود درجہ بندی میں ادارہ تکنیکی معیارات کے مطابق اپنی حیاتیاتی تحفظ (بایو سیکیورٹی) کی تیاری کا خود جائزہ لیتا ہے، جس سے خطرات پر قابو پانے اور نگرانی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اعلیٰ درجے حاصل کرنے والے منصوبوں کو طریقہ کار اور خدمات کے لیے "فاسٹ ٹریک" کی سہولت ملتی ہے، جبکہ معائنہ ٹیموں کے دورے ساتھ ساتھ جاری رہتے ہیں۔

خوراک کے ذریعے پھیلنے والے جراثیم سے انسانوں کے تحفظ کے "ون ہیلتھ" نقطہ نظر کے تحت مرکز نے 2026 کی پہلی ششماہی میں میدانی سرگرمیاں تیز کیں۔ اس دوران جانوروں کے مراکز کے 2,757 معائنے، ویٹرنری اداروں کے 6,628 دورے، نجی و سرکاری مذبح خانوں کے 181 دورے، مویشی منڈیوں کے 117 دورے اور پولٹری مذبح خانوں کے 15 معائنے کیے گئے۔

اسی عرصے میں "وقاء" نے 15 تربیتی پروگرام منعقد کر کے بایو سیکیورٹی کے 86 انسپکٹرز کو تربیت دی۔ تربیت میں پولٹری مذبح خانوں سے سالمونیلا کے نمونے درست طریقے سے جمع کرنے اور پیشہ ورانہ حفاظتی معیارات کے مطابق انہیں لیبارٹری تک پہنچانے پر توجہ دی گئی، تاکہ لیبارٹری تشخیص زیادہ درست ہو۔

مرکز کے مطابق یہ کوششیں سعودی وژن 2030 کے تحت غذائی تحفظ، صارفین کی صحت اور مویشیوں کے تحفظ میں معاون ہیں۔ صارفین کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دسترخوان تک پہنچنے والے مرغی اور گوشت کی سلامتی پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔