سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق العلا گورنریٹ ہزاروں سال پر محیط تہذیبی ورثے اور آثارِ قدیمہ، چٹانی ساختوں، زرعی نخلستانوں اور فنون پر مشتمل متنوع قدرتی و ثقافتی منظرنامے کی بدولت عالمی سیاحتی نقشے پر اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے۔ یہ بات ہر سال 27 ستمبر کو منائے جانے والے عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر سامنے آئی۔

قدیم تجارتی قافلوں کے راستوں پر واقع ہونے کی وجہ سے العلا یکے بعد دیگرے کئی تہذیبوں کا سنگم رہا۔ الحجر کا آثارِ قدیمہ کا مقام یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہونے والا پہلا سعودی مقام ہے، جو نبطی تہذیب اور چٹانوں میں تراشے گئے اس کے فنِ تعمیر کا گواہ ہے۔ دادان اور جبل عکمہ جیسے مقامات اس تہذیبی تسلسل کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔

قدیم قصبے میں مٹی کی اینٹوں سے بنے 900 سے زائد مکانات ہیں جن کی بنیاد تقریباً سات صدیاں پہلے رکھی گئی۔ اسے اقوامِ متحدہ کی عالمی سیاحتی تنظیم کے "بہترین سیاحتی دیہات" اقدام میں منتخب کیا گیا۔ فنون کے میدان میں "مرایا" ہال اور الجدیدہ آرٹس ڈسٹرکٹ نمایاں ہیں۔

گورنریٹ میں فنون، موسیقی، کھیل، مہم جوئی اور ستارہ بینی سے متعلق تقریبات سال بھر جاری رہتی ہیں۔ صحرائی ریزورٹس، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں توسیع کے ساتھ العلا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سڑکوں کا نیٹ ورک اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے آنے والوں کی رسائی آسان بناتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں العلا کو سیاحت و سفر کے شعبوں میں متعدد ایوارڈز اور درجہ بندیاں بھی ملی ہیں۔

ایجنسی کے مطابق عالمی یومِ سیاحت پر العلا سعودی وژن 2030 کے اہداف کے تحت مملکت کے سیاحتی شعبے میں ہونے والی ترقی کی تصویر پیش کرتا ہے، جہاں تاریخی و قدرتی مقامات کے تحفظ اور انہیں زائرین کے لیے قابلِ رسائی بنانے میں توازن رکھا جاتا ہے۔