یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کے اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ منگل 29 ستمبر 2026 کو فجر کے وقت 5:11 بجے مدینہ منورہ میں 'طیبہ' بجلی تقسیم اسٹیشن پر حملہ کیا گیا، جسے اتحاد نے دہشت گرد حملہ قرار دیا۔

ترجمان کے مطابق متعلقہ حکام کی تحقیقات، آپریشنل جائزے اور استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے سے اس کارروائی کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں حوثی ملیشیا کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جسے اتحاد 'دہشت گرد حوثی ملیشیا' کہتا ہے۔

المالکی نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر سروس سے باہر ہو گیا، تاہم بجلی کا نیٹ ورک متاثر نہیں ہوا۔ ان کے مطابق یہ اسٹیشن ایک شہری تنصیب ہے جو مسجد نبوی شریف کو بجلی کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ اتحاد کے بقول یہ حملہ حرمین شریفین کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کو نشانہ بنا کر دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کے سلسلے کی کڑی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اتحاد حوثی ملیشیا کو باز رکھنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا تاکہ حرمین شریفین کا تحفظ اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ میں ضیوف الرحمن کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔

مدینہ منورہ ہر سال دنیا بھر سے آنے والے بڑی تعداد میں زائرین کی منزل ہے، جن میں پاکستان سے آنے والے زائرین بھی شامل ہیں۔